A huge collection of 3400+ free website templates JAR theme com WP themes and more at the biggest community-driven free web design site
Home / Conspiracy / عوام بڑی بھولی ہے، برا نہ مانو ہولی ہے

عوام بڑی بھولی ہے، برا نہ مانو ہولی ہے

بے حیائی، بے شرمی ،بیہودگی،بے راہ روی،عریانی،فحاشی یہ وہ تمام الفاظ ہیں جن کا نام سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں کچھ مخصوص جگہوں، کا خیال اآتا ہے،وہ کونسی جگہیں ہیں،اس کا ذکر میں یوں نہیں کر سکتا کہ مجھے اپنی اخلاقی قدروں کا پاس ہے،میرا حلقہءاحباب شریف لوگوں پر مشتمل ہے،اور وہ کسی بھی قسم کے بولڈ تبصرے کو حد سے تجاوز کرنے کے متعرادف سمجھتے ہیں،جو کہ صحیح بھی ہے،آپ اسے تنگ نظری کہیں،انتہا پسندی کہیں یا کچھ اور، میں بھی اس رائے سے متفق ہوں کہ خود کو روشن خیال ثابت کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی زبانی یا جسمانی بے حودگی میں ملوث ہونے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہوتی،کسی دانشور نے خوب کہا ہے کہ اگر کم لباس پہننا ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے تو جانور ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے اس قوم کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تو جہاں تعلیم کی بات کی جائے گی وہاں تعلیمی اداروں کا ذکر بھی لازمی آئے گا، تعلیمی معیار بھی ہدف تنقید بنے گا،اور اساتذہ کی مخلصی کو بھی جانچا جائے گا،اس معاملے میں میرا شمار ان چند خوش نصیب لوگوں میں ہوگا جس کو اچھے استاد مل گئے اور اور انکے فیض کی بدولت مجھے اچھے برے میں تمیز کرنی آگئی،مگر مزے کی بات یہ ہے کہ میری یہ خوش نصیبی گریجویشن تک ہی ساتھ رہی جونہی یونیورسٹی میں قدم رکھا تو آہستہ آہستہ یہ احساس ہوا،بلکہ ذیادہ بہتر ہوگا اگر یہ کہوں کہ یہ احساس دلایا گی کہ:
 مخلصی اور احساس یہ سب فضول باتیں ہیں آپ نے اچھی خآصی موٹی  فیس دی ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کتنا ذیادہ وصول کر لیں۔(وصول کرنے کے ان گنت طریقے ہیں) ،ہمیں اخلاقیات کا اچار نہیں ڈالنا،کردار کا مینار نہیں بنانا،کیا قیامت آجائے گی اگر بسنت میں لڑکا لڑکی ساتھ ٹھمکے لگا لیں؟؟،زندگی ملے گی نہ دوبارہ لہذا اس ایک بار کی زندگی میں جتنا تفریح کر سکتے ہو کر ڈالو کیا پتہ کل ہو نہ ہو،اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالو، کیا کبھی ایسے استاد ملے ہونگے؟ جیسے اب مل گئے ہیں، تمھاری بیوقوفیوں میں مکمل معاونت فراہم کرتے ہیں،بلکے تم سے ذیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں،اب بھی تم ناشکری کر رہے ہو؟؟ لوگ بھارت جانے کے خواب دیکھتے ہیں،دیکھو ہم نے تمھاری خاطر، صرف تمھاری خآطر یہیں ہولی منانے کا انتظام کردیا،کیوں بلا وجہ ملا گیری کرتے ہو،کیوں اصلاح معاشرہ کے ٹھیکیدار بنتے ہو؟ دفع کرو اور کھیلو رنگوں سے،ایک دوسرے کو رنگ لگاءو،خوب رنگ لگاءو،مصنوعی رنگ،،،،،،،بھول جاءو کہ تمھارا اصلی رنگ کیا ہے، جس کے ارد گرد اتنی ساری پوپٹ (رنگ برنگی تتلیاں) ہوں،اسکا تو دماغ ہرا ہوجاتا ہے اور تم ہو کہ، خوامخواہ سارا مزہ کرکرا کر رہے ہو،ہم نے تمھارے لئے نہ صرف خشک رنگ رکھے بلکہ پچکاری (واٹر کن) کا بھی انتظام کیا ،کرو ایک دوسرے کو گیلا،اور ساتھ ساتھ گنگناتے جاءو بلم پچکاری جو تو نے مجھے ماری تو سیدھی سادی چھوری شرابی ہوگئی،بس ایک ہی تو شرط رکھی ہے ہم نے کہ لباس سفید پہن کر  آنا،تاکہ پتہ چلے کہ کیسے رن برنگے ہوگئے ہو تم،ایک رنگی نہیں بلکہ سترنگی ہوگئے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پینے کو مفت میں لسی دے رہے ہیں، اس پر بھی تمھیں تکلیف ہے، ہم کونسا لسی میں بھنگ ملا رہے ہیں،بس ذرا اصلی کا گمان ہو اس لئے یہ سب کرلیا ورنہ ھماری نیت کوئی بیہودگی مچانے کی تھوڑا ہی تھی۔ تم بھی کمال کرتے ہو پانڈے جی۔۔۔




بات شروع ہوئی تھی بے شرمی، بے حیائی اور بیہودگی سے، ،سلسلہ پھر وہیں سے جوڑتے ہیں،مجھے یاد ہے بچپن میں (جب اسٹار پلس اپنے جوبن پر تھا)  اور اکثر لوگ اس سے اتنے ذیادہ متاثر تھے کہ باقائدہ ہندی زبان کے کچھ الفاظ بولنے لگے تھے،تو میرے اسکول کے ایک ٹیچر نے ایک لڑکے کو اسی بات پر اچھا خاصہ ڈانٹا تھا، شاید وہ اس بات کو معیوب سمجھتے تھے کہ ہم اس قوم کا طرز اپنائیں جس سے ہم بالکل مختلف ہیں،اتنے مختلف کہ دو قومی نظریئے کی بنیاد پر الگ ملک بنا ڈالا، ہندو جس دھرتی کو اپنی ماں کہتے تھے ،اس ماں کو کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیا،شاید میرے وہ ٹیچر جانتے تھے،انھیں معلوم تھا کہ یہ معاملہ بہت نازک ہے،جب ہی اس لڑکے کی سرزنش کی،اسی وقت اسے روک دیا کہ آئندہ وہ احتیاط کرے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ مگر آج تو بے شرمی کا یہ آلم ہے کہ صرف ہندی بولنا تو کجا ہم تو بنانگِ دہل ہولی منا رہے ہیں،خود بے حیاء بن کر کھلم کھلا بے حیائی کا پرچار کر رہے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ہم کر کیا رہے ہیں اور ہمارے ان اقدامات کے کیا نتائج نکلینگے،لڑکا لڑکی کو رنگ لگائے گا، گیلا کرے گا ،بھاگ دوڑ، پکڑ دھکڑٍ، اور بہت کچھ، معزرت کے ساتھ یہ سب چیزیں بے راہ روی کو جنم دیتی ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معاشرے میں بگاڑ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہاں سے حیا کی چڑیا اڑ جاتی ہے،اور جب یہ سب چیزیں تعلیمی اداروں میں ہونے لگیں تو، تو یوں سمجھیں کہ شیطان کو ورک پرمٹ مل گیا،کیونکہ جو درسگاہیں علم و ادب سکھاتی تھیں جب وہاں رنگ برسے بھیگے چنر والی رنگ برسے پر مٹکنا اور تھرکنا ہوگا تو اللہ ہی ہمارا حافظ ہے،اسکے سوا کوئی ہمیں نہیں بچا سکتا، کیونکہ جہاں کیچڑ ذیادہ ہوتی ہے وہاں ہاتھی بھی پھسل جاتا ہے۔
  آخر میں ان تمام لوگوں سے معزرت چاہوں گا جن کی یہ تحریر پڑھ کر دل آزاری ہوئی،ممکن ہے وہ کھل کر مجھے کچھ نہ بولیں مگر دل ہی دل میں جو گالیاں دینگے، میں انکے احساسات کی قدر کرتا ہوں، ان سب سے بس اتنا ہی کہونگا ہولی ہے بھئی ہولی ہے،برا نہ مانو ہولی ہے۔
Written by: Hassaan Imam
Facebook Comments

Check Also

hilary-clinton

‘We Should Take a Drug Test’ Before Debate, Donald Trump Says

PORTSMOUTH, N.H. — Escalating his criticism of Hillary Clinton’s debate performances, Donald J. Trump came …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *